اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امريکا نے ايک بار پھر اعلان کيا ہے کہ وہ عراق کي طرح شام کے اندر بھي، دمشق حکومت کي اجازت بغير داعش کے ٹھکانوں پر فضائي حملے کرسکتا ہے - اس کے جواب ميں شام کے وزير خارجہ وليد معلم نے اعلان کيا ہے کہ دمشق کي اجازت کے بغير شام ميں داعش کے خلاف امريکا کا ہر اقدام ملک کي ارضي سالميت اور اقتدار اعلي کي خلاف ورزي شمار ہوگا -
شام کے وزير خارجہ نے اسي کے ساتھ اعلان کيا ہے کہ ان کے پاس اس بات کے کافي ثبوت و شواہد موجود ہيں کہ داعش کي امريکا کے علاوہ اور کن حکومتوں نے حمايت کي ہے -
امريکي وزارت جنگ پنٹاگون کے ترجمان نے اپنے ايک مداخلت پسندانہ بيان ميں کہا ہے کہ امريکا شام کي فضائي حدود ميں ڈرون طياروں کي پروازوں کے معاملے پر شامي حکومت کي اجازت نہيں لے گا -
پنٹاگون کے ترجمان جان کربي نے ايک پريس کانفرنس ميں اس سوال کے جواب ميں کہ کيا امريکا شامي حکومت کي اجازت کے بغير اپني جاسوسي کي پروازيں اس کي فضائي حدود ميں انجام دے سکتا ہے کہا کہ عراق ميں جو کاروائياں داعش کے خلاف جنگ کے لئے ہم انجام دے رہے ہيں ان کے بارے ميں ہم شام سے کوئي ہم آہنگي نہيں کررہے ہيں-
پنٹاگون کے ترجمان نے کہا کہ داعش کا خطرہ ايک بہت ہي سنگين خطرہ ہے اور امريکا اپنے شہريوں کي حفاظت کےلئے خواہ وہ امريکا کے اندر ہوں يا باہر ہر ضروري اقدام کرےگا -
يہ ايسي حالت ميں ہے کہ شام کے وزيرخارجہ وليد المعلم نےدمشق ميں ايک پريس کانفرنس ميں کہا کہ ہماري حکومت کي اجازت کے بغير داعش کے خلاف امريکا کي طرف سے شام کے اندر کوئي بھي اقدام شام کي ارضي سالميت اور اقتدار اعلي کي خلاف ورزي سمجھا جائے گا -
شامي وزيرخارجہ نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ شام دہشت گردي کے خلاف جنگ کے لئے بين الاقوامي تعاون کے لئے تيارہے کہا کہ شام کے پاس ايسے ثبوت ہيں جن سے يہ ثابت ہوتا ہے کہ کون لوگ شام ميں دہشت گردوں کي اسلحہ جاتي اور مالي حمايت کرتے ہيں-
واضح رہے کہ امريکي حکام اپنے شہريوں کي حفاظت کے لئے جغرافيائي حدود کے مقولے کے قائل نہيں ہيں اور اس پر عمل کرنے کے لئے امريکا سے ہزاروں کلوميٹر دور علاقوں ميں بھي اپني فوج بھيج ديتے ہيں -
امريکي شہريوں کي جان کي حفاظت کا بہانہ جو سابق امريکي صدر جارج بش کي حکومت کے زمانے ميں پيشگي حملے کي شکل ميں تيار کيا گيا تھا دنيا کے مختلف ملکوں کے اقتدار اعلي کي حلاف ورزي کرتا ہے -
امريکا کے نيوکانزٹولے کے پيشگي حملوں کي پاليسي کے تحت پہلے دوہزار ايک ميں افغانستان اور اس کے بعد دوہزار تين ميں عراق پر فوجي چڑھائي کي گئي -
القاعدہ اور ان ملکوں کے ساتھ جنھيں امريکا نے اپنے خيال ميں شرارت کا محور قرار دے رکھا ہے امريکا کے نيو کانزدھڑے کي جنگوں کا نتيجہ بدامني اور تشدد ميں اضافے کے سوا اور کچھ نہيں نکلا -
کم ازکم پچھلے ايک عشرے کا تجربہ تو يہي بتاتا ہے کہ جہاں بھي امريکا کا مفاد براہ راست خطرے ميں ہوتا ہے واشنگٹن وہاں بين الاقوامي قوانين کي پرواکئے بغير ہي دوسرے ملکوں کي ارضي سالميت اور اقتدار اعلي کي خلاف ورزي کرديتا ہے -
اور يہ طريقہ کار امريکا کي مختلف حکومتوں کے ادوار ميں اپنايا جاتا رہا ہے اور آج بھي ڈيموکريٹک پارٹي کےامريکي صدر اوباما کي حکومت بھي داعش کے خلاف جنگ کے بہانے شام کي ارضي سالميت اوراقتداراعلي کي خلاف ورزي کرنے پر تلي ہوئي ہے جبکہ امريکا کي اسي حکومت نے دوہزارگيارہ ميں خود داعش جيسے دہشت گرد گروہ کو شام ميں پروان چڑھانے ميں سب سے اہم کردار ادا کيا اور اس کا مقصد شام کے صدر بشار اسد کا تختہ الٹنا تھا -
.......
/169